My Blog on Addressbookonline
BLOG CALENDAR CALENDAR
RSS FEED

دفاعی بجٹ میں تقریباً سو ارب کا اضافہ

پاکستان کی حکومت نے یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال سنہ دو ہزار دس اور گیارہ کے لیے بتیس کھرب انسٹھ ارب روپے کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے جو کہ رواں سال کے بجٹ سے دس اعشاریہ سات فیصد زیادہ ہے۔

کلِک

اس بجٹ میں دفاعی اخراجات کے لیے چار کھرب بیالیس ارب بیس کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو کہ رواں سال کے بجٹ سے سو ارب روپے زیادہ ہیں۔

 

وفاقی وزیر عبدالحفیظ شیخ نے سنیچر کو بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ چھ سو پچاسی ارب روپے خسارے کا بجٹ ہے جو جی ڈی پی کے چار فیصد کے برابر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خسارے کو بیرونی امداد اور بینکوں سے قرضہ حاصل کر کے پورا کیا جائے گا۔ وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ نئے مالی سال میں اکیاون ارب نوے کروڑ روپے کیری لوگر بل کے تحت امداد ملے گی۔

اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر نے بتایا ہے کہ بجٹ کا اجلاس مقررہ وقت سے تقریباً ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا اور اس سے قبل حفیظ شیخ نے اپنے دو دیگر ساتھیوں سمیت ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری کے ہاتھوں وفاقی وزیر کا حلف اٹھایا۔ موجودہ حکومت نے یہ تیسرا بجٹ پیش کیا ہے اور ہر سال ایک نئے وفاقی وزیر مالیات نے بجٹ پیش کیا ہے۔

دفاع کے لیے بجٹ کے مد میں چار کھرب بیالیس ارب بیس کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ریٹائرڈ فوجیوں کو دی جانے والی پنشن کی رقم اس میں شامل نہیں ہے۔ رواں سال میں دفاع کے لیے مختص رقم سے پینتیس ارب بائیس کروڑ روپے زیادہ خرچ کیے گئے۔

بجٹ میں ٹیکس کی وصولی کا تخمینہ سترہ کھرب اٹھہتر ارب ستر کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ لیکن یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹیکس وصول کرنے والا ادارہ تیرہ سو اٹھہتر ارب روپے وصول کر پائے گا۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری اخراجات کا تخمینہ انیس کھرب ستانوے ارب نوے کروڑ روپے لگایا گیا ہے جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے سات کھرب چھیاسٹھ ارب پچاس کروڑ روپے مختص کیے گئے۔

دفاع کے لیے بجٹ کے مد میں چار کھرب بیالیس ارب بیس کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ریٹائرڈ فوجیوں کو دی جانے والی پنشن کی رقم اس میں شامل نہیں ہے۔ رواں سال میں دفاع کے لیے مختص رقم سے پینتیس ارب بائیس کروڑ روپے زیادہ خرچ کیے گئے۔

بجٹ میں سرکاری ملازمین کو پچاس فیصد ایڈہاک ریلیف دینے اور انکم ٹیکس میں چھوٹ کی حد تین لاکھ روپے تک بڑھانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں اب پچیس ہزار روپے ماہانہ آمدن والے پاکستانی شہری انکم ٹیکس سے مسثتنٰی ہوں گے۔

بجٹ میں یکم اکتوبر تک سیلز ٹیکس کی شرح سولہ سے بڑھا کر سترہ فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

جوہری، تھرمل، ہائیڈل بجلی پیدا کرنے کے لیے تقریبا ایک سو تیس ارب روپے رکھےگئے ہیں۔

رواں مالی سال میں گندم، کپاس، بجلی، کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر مدوں میں دو کھرب انتیس ارب روپے سبسڈی دی گئی لیکن نئے مالی سال میں ایک کھرب چھبیس ارب ساٹھ کروڑ روپے سبسڈی کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو ملنے والی سبسڈی کی مجموعی رقم میں تو کمی نہیں کی گئی لیکن گھی، آّٹے اور دالوں پر سبسڈی ختم کی گئی ہے اور رمضان پیکیج کے لیے بھی رقم آدھی کرکے ستر کروڑ روپے کی گئی ہے جبکہ چینی پر ساڑھے تین ارب کی سبسڈی دی گئی ہے۔

بجٹ میں صحت کے لیے سات ارب اٹھائیس کروڑ تیس لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ تعلیمی خدمات کے لیے چونتیس ارب پچاس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ تعلیمی بجٹ کا زیادہ تر حصہ بنیادی تعلیم پر خرچ ہوگا۔

صوبوں کو رواں مالی سال میں ملنے والی رقم کی نسبت تین کھرب اٹہتر ارب چھتیس کروڑ روپے نئے مالی سال میں زیادہ ملیں گے۔

رواں مالی سال میں گندم، کپاس، بجلی، کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر مدوں میں دو کھرب انتیس ارب روپے سبسڈی دی گئی لیکن نئے مالی میں ایک کھرب چھبیس ارب ساٹھ کروڑ روپے سبسڈی کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ آئندہ تین برسوں کے لیے بجٹ کے تخمینہ جات پیش کیے گئے۔ یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کے لیے پیش کردہ بجٹ میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی سمیت تمام ٹیکسز کے مد میں رواں سال کی نسبت زیادہ آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

توانائی کے بحران سے نمٹنے پر نئے بجٹ میں کافی توجہ دی گئی ہے اور تین کروڑ انرجی سیور بلب مفت تقسیم کرنے، جوہری، تھرمل، ہائیڈل بجلی پیدا کرنے کے لیے تقریباً ایک سو تیس ارب روپے رکھےگئے ہیں۔

وفاقی وزیر مالیات عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ بہت ساری خرابیوں کی وجہ مالی بد انتظامی ہے۔ ان کے مطابق پورے ملک کی حکومت کا سالانہ خرچ ایک سو پینسٹھ ارب روپے ہے لیکن صرف بجلی پیدا کرنے والی کمپنی پیپکو کو سالانہ ایک سو اسی ارب روپے کی سبسڈی دی جاتی ہے۔

اس سے قبل وفاقی کابینہ نے اپنے اجلاس میں بجٹ کی منظوری دی اور بعد ازاں وزیراعظم نے حکومتی اتحاد کی پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لیا۔